جمعہ 2 اکتوبر 2026 - 00:50
اسلامی بینکاری سے اسلامی معاشی نظام تک؛ حوزاتِ علمیہ اور جدید معاشی تقاضے

حوزہ/ حجت الاسلام سید مظہر عباس زیدی نے کہا: اسلامی بینکاری محض روایتی بینکاری کو شرعی لبادہ پہنانے کا نام نہیں بلکہ شریعت کے اصول و ضوابط کی روشنی میں مالی معاملات کو منظم کرنے کا نام ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی بینکاری، فقہِ معاملات، جدید مالیاتی نظام اور حوزاتِ علمیہ کے درمیان علمی و عملی ارتباط عصر حاضر کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔ جدید دور میں بینکاری، ڈیجیٹل کرنسی، حلال صنعت، مالیاتی اداروں اور دیگر معاشی معاملات نے نئی صورتیں اختیار کی ہیں، جن کے شرعی احکام کے تعین کے لیے فقہاء اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کے درمیان باہمی تعامل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔

ممبر شریعہ فوکس گروپ پاکستان اسٹاک ایکسچنج، ممبر شریعہ بورڈ سندھ بینک لمیٹڈ، شریعہ ایڈوائزر الصادق شریعہ سولوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ اور ممبر ایگزیکٹو کمیٹی الصادق انسٹیٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ فائنانس اینڈ تکافل حجت الاسلام والمسلمین سید مظہر عباس زیدی نے اسلامی بینکاری کی حقیقت، روایتی اور اسلامی بینکاری میں بنیادی فرق، سود اور جائز منافع، فقہِ معاملات کی اہمیت، حوزاتِ علمیہ اور معاشرے کے درمیان ارتباط، علما کے لیے جدید علوم سے واقفیت، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل کرنسی جیسے جدید موضوعات نیز الصادق انسٹیٹیوٹ کی علمی و تربیتی سرگرمیوں پر حوزہ نیوز کے نمائندہ کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی ہے۔ جس کا آخری حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:

حوزہ: پاکستان میں عوام کے اندر اسلامی بینکاری کے بارے میں شعور کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟ کیا لوگ اسلامی بینکاری کو صرف ’’سود سے پاک بینکاری‘‘ سمجھتے ہیں یا اس کے دیگر شرعی و اخلاقی پہلو بھی ہیں؟

حجت الاسلام سید مظہر عباس زیدی: اسلامی بینکاری کے بارے میں شعور کا مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عمومی طور پر مسلم معاشروں میں معاملات کے مقابلے میں عبادات کے مسائل پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔

ہم مساجد، مجالس اور دینی اجتماعات میں نماز، روزہ، وضو اور دیگر عبادات کے مسائل پر بہت گفتگو سنتے ہیں۔ عام انسان بھی ان مسائل کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ لیکن معاملات کے بارے میں عمومی آگاہی نسبتاً کم ہے۔

لوگ یہ ضرور جانتے ہیں کہ رشوت حرام ہے اور سود حرام ہے لیکن یہ سوال کم سامنے آتا ہے کہ سود کی حقیقت کیا ہے؟ وہ کہاں کہاں داخل ہوسکتا ہے؟ خرید و فروخت کے کون سے طریقے شرعی ہیں؟ کاروبار شروع کرنے سے پہلے شرعی اصول و ضوابط کیا ہیں؟

اسلامی بینکاری سے اسلامی معاشی نظام تک؛ حوزاتِ علمیہ اور جدید معاشی تقاضے

یہاں ہمارے علماء، طلبہ اور دینی اداروں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ معاشرے کو معاملات کے شرعی احکام سے بھی آگاہ کریں۔

بعض لوگوں کے ذہن میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ اسلامی بینکاری دراصل وہی روایتی بینکاری ہے جسے صرف شرعی نام دے دیا گیا ہے۔ یہ تصور درست نہیں۔

اسلام ایک مکمل مالیاتی نظام رکھتا ہے۔ ربا کی حرمت قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور مضاربہ، مشارکہ اور دیگر معاملات کا جواز بھی اسلامی مصادر سے ثابت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کو بتایا جائے کہ اسلامی بینکاری کسی مغربی تصور کی نقل نہیں بلکہ اسلامی فقہِ معاملات کے اصولوں کی روشنی میں مالی معاملات کو منظم کرنے کی کوشش ہے۔

حوزہ: موجودہ دور میں طلابِ دینی اور علماء کے لیے اسلامی بینکاری، جدید مالیاتی نظام اور معیشت کے مسائل سے واقفیت کس قدر ضروری ہے؟ کیا حوزاتِ علمیہ کے نصاب میں اسلامی مالیات اور جدید اقتصادی مسائل کو شامل کیا جانا چاہیے؟

حجت الاسلام سید مظہر عباس زیدی: میرے خیال میں دینی طلبہ کے لیے سب سے پہلے اپنی بنیادی دینی تعلیم میں مضبوط ہونا ضروری ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ طلبہ اپنی اصل علوم سے ہٹ کر دوسرے موضوعات کی طرف چلے جائیں۔

البتہ جب کوئی طالب علم بنیادی علوم میں مضبوط ہوجائے اور تخصص کے مرحلے میں پہنچے تو اس کے لیے متعلقہ جدید موضوعات کو سمجھنا ضروری ہے۔

اصل ضرورت حوزہ اور معاشرے کے درمیان مضبوط ارتباط کی ہے۔ حوزہ علومِ دینیہ میں ماہر افراد تیار کرتا ہے لیکن ان علوم کو معاشرے کے مختلف شعبوں سے جوڑنا بھی ضروری ہے۔

معاشرہ مختلف افراد اور شعبوں پر مشتمل ہے۔ کوئی کاروباری ہے، کوئی بینکر ہے، کوئی ڈاکٹر ہے، کوئی وکیل ہے۔ جب تک حوزہ اور پروفیشنلز مل کر نہیں بیٹھیں گے، ہم حقیقی معنوں میں اسلامی معاشرے کی تشکیل کی طرف مؤثر پیش رفت نہیں کرسکتے۔

اسلامی بینکاری سے اسلامی معاشی نظام تک؛ حوزاتِ علمیہ اور جدید معاشی تقاضے

ایک فقیہ حکم بیان کرتا ہے لیکن کسی موضوع پر صحیح حکم بیان کرنے کے لیے موضوع کی صحیح تشخیص ضروری ہے۔ جس طرح ڈاکٹر مرض کی تشخیص کے بعد علاج تجویز کرتا ہے، اسی طرح فقہاء کے لیے بھی جدید موضوعات کی صحیح شناخت اور تفہیم ضروری ہے۔

شہید سید محمد باقر الصدر نے اقتصادنا اور بینکاری کے موضوع پر کام صرف نجف میں بیٹھ کر نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے بینکاروں اور ماہرینِ اقتصاد سے ملاقاتیں کیں، ان کے تجربات کو سمجھا اور پھر اسلامی اقتصادی نظام کے حوالے سے اپنی قیمتی علمی کاوش پیش کی۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حوزہ اور ماہرینِ مختلف شعبوں کے درمیان علمی رابطہ ضروری ہے۔

ہمارا مقصد صرف اسلامی بینکاری نہیں بلکہ اسلامی نظام کا پیغام ہے۔ البتہ اگر ہمیں ایک بلند مقصد تک پہنچنا ہے تو پہلا قدم زمین ہی سے اٹھانا ہوگا۔ موجودہ حالات میں اسلامی بینکاری ایک اہم ابتدائی قدم ہوسکتی ہے، کیونکہ بینکنگ موجودہ مالیاتی نظام کی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

حوزہ: کرپٹو کرنسی، ڈیجیٹل اثاثوں اور دیگر جدید مالیاتی ذرائع جیسے نئے مسائل کے حوالے سے علماء اور ماہرینِ شریعت کو کس نوعیت کی تیاری کی ضرورت ہے؟

حجت الاسلام سید مظہر عباس زیدی: سب سے پہلے تو میں عرض کروں کہ دینی طلبہ کو اپنی بنیادی تعلیم کے ساتھ جدید دنیا کی ضروریات سے بھی واقف ہونا چاہیے۔ آج زبانوں کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ انگریزی اور عربی جیسی زبانوں پر مہارت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص مصنوعی ذہانت (AI)، سے استفادہ کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ضروری ہے کہ ہم مصنوعی ذہانت (AI) کے صرف صارف نہ بنیں بلکہ اس کے علمی اور فنی پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم مستقبل کی ٹیکنالوجی خود تیار کرنے کی صلاحیت پیدا کریں گے تو ہم اپنے سیاسی، اقتصادی اور سماجی نظاموں کے حوالے سے اپنا فکری زاویہ بھی مؤثر انداز میں پیش کرسکیں گے۔

الحمد للہ شریعت جامع ہے اور اس میں قیامت تک پیش آنے والے معاملات کے لیے اصول موجود ہیں۔ البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ قرآن و حدیث میں ہر نئی چیز کا نام لفظ بہ لفظ موجود ہوگا۔ ہمیں اصول و ضوابط دیے گئے ہیں اور نئے موضوعات کو انہی اصولوں کی روشنی میں سمجھنا ہوگا۔

آج بٹ کوائن یا ڈیجیٹل کرنسی کا نام قدیم فقہی کتابوں میں نہیں ملے گا لیکن اس کی حقیقت، ساخت اور مالی حیثیت کو سمجھ کر اس پر موجود شرعی اصولوں کا اطلاق کیا جاسکتا ہے۔ البتہ، یہاں موضوع شناسی بہت اہم ہے۔ اگر خود اس موضوع کے ماہرین ہی جب تک اس بات پر متفق نہ ہوں کہ ڈیجیٹل کرنسی کی حقیقت کیا ہے، اس کی مالی حیثیت کیا ہے اور اس کے مختلف پہلو کیا ہیں تو فقیہ کے لیے بھی حتمی حکم بیان کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے متعلقہ ماہرین اس موضوع کو واضح کریں، پھر اسے فقہی اصولوں کے سامنے پیش کیا جائے۔

اسلامی بینکاری سے اسلامی معاشی نظام تک؛ حوزاتِ علمیہ اور جدید معاشی تقاضے

پاکستان میں بھی ڈیجیٹل اثاثوں اور کرپٹو کے حوالے سے قانونی و انتظامی سطح پر پیش رفت ہورہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شریعہ اسکالرز اور متعلقہ ماہرین بھی اس موضوع پر سنجیدہ علمی کام کریں۔

اسی طرح فقہاء کو جدید مسائل سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے، لیکن کسی نئی چیز کو صرف اس لیے جائز بھی قرار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ نئی ہے۔ ہر نئی چیز کو شریعت کے معیار اور اصولوں کے مطابق جانچنا ہوگا۔ بعض معاملات میں موضوع کی حقیقت بدلنے سے حکم بھی تبدیل ہوسکتا ہے، خصوصاً وہاں جہاں انسانی تعامل اور عرف بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حوزاتِ علمیہ میں جدید موضوعات کے لیے تخصصی شعبے قائم ہوں۔ ایسے ماہرین تیار کیے جائیں جو کسی موضوع کو گہرائی سے سمجھ کر اسے فقہاء کے سامنے پیش کرسکیں۔

اگر ہم آج سے اس کام کا آغاز کریں تو ممکن ہے وہ فتویٰ جو دس سال بعد سامنے آئے، وہ علمی تیاری کی وجہ سے ایک سال بعد ہی سامنے آسکے۔

حوزہ: الصادق انسٹیٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ فنانس اینڈ تکافل جیسے ادارے طلاب دینی اور علماء کو جدید مالیاتی نظام سے آشنا کرنے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟

حجت الاسلام سید مظہر عباس زیدی: الصادق انسٹیٹیوٹ کا پس منظر 2002ء تک جاتا ہے۔ اس زمانے میں پاکستان میں جدید معاشی نظام اور اسلامی بینکاری کے حوالے سے گفتگو ہورہی تھی۔ اس موقع پر اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات اور فقہِ امامیہ کی جامعیت کو بھی سامنے لانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔

بعد میں پاکستان میں اسلامی بینکنگ باقاعدہ طور پر آگے بڑھی اور مختلف اسلامی بینکوں کو لائسنس ملنے لگے۔ اس دوران شیعہ علماء کی طرف سے بھی اس شعبے میں علمی و عملی طور پر کام کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔

یہ ادارہ باقاعدہ طور پر 2007ء میں رجسٹرڈ ہوا۔ اس کے بعد ہم نے علماء اور بینکاری کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے مختلف کورسز اور تربیتی پروگرام شروع کیے۔

اس شعبے کا ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ اس کی بیشتر اصطلاحات اور لٹریچر انگریزی میں ہیں۔ اس لیے علماء کے لیے صرف بنیادی دینی تعلیم کافی نہیں بلکہ انہیں جدید مالیاتی نظام اور اس کی فنی اصطلاحات سے بھی واقف ہونا ہوگا۔

میں نے کامرس میں ماسٹرز کیا اور اکاؤنٹنگ میں تخصص حاصل کیا۔ بعد میں اسلامی فنانس کی طرف آیا۔ میرے اساتذہ نے مشورہ دیا کہ چونکہ میں نے بزنس اور کامرس پڑھا ہے، اس لیے اسلامی فنانس میرے لیے زیادہ موزوں شعبہ ہوسکتا ہے۔

اسلامی بینکاری سے اسلامی معاشی نظام تک؛ حوزاتِ علمیہ اور جدید معاشی تقاضے

مجھے جامعہ کراچی میں اسلامی فنانس میں ایم فل میں داخلہ ملا۔ بعد میں بینک الحبیب میں تقریباً دو سال پروڈکٹ ڈویلپمنٹ اور شریعہ اسکالر کے طور پر کام کیا۔

اس دوران مجھے عملی تجربہ حاصل ہوا، ڈگریاں اور عالمی سرٹیفکیٹس حاصل کیے اور شریعہ ایڈوائزر کے طور پر بھی رجسٹریشن ہوئی۔

بعد میں میں نے بینک کی ملازمت چھوڑ کر اپنی توجہ علمی و تربیتی کام پر مرکوز کردی، کیونکہ مجھے محسوس ہوا کہ صرف ایک بینک میں بیٹھ کر کام کرنے کے بجائے مدارس، جامعات اور علماء کے درمیان اسلامی بینکاری کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے زیادہ وسیع میدان میں کام کرنا ضروری ہے۔

حوزہ: پاکستان میں اسلامی بینکاری کے فروغ، عوامی شعور و آگاہی اور شرعی تقاضوں کی بہتر تکمیل کے لیے اس ادارہ کا کیا کردار ہے؟

حجت الاسلام سید مظہر عباس زیدی: ہم نے کراچی کے مختلف مدارس میں پروگرام شروع کیے اور جامعات کے ساتھ بھی رابطہ قائم کیا۔ اسی سلسلے میں 2025ء میں اسٹیٹ بینک کے تعاون سے پاکستان کے مختلف شہروں میں پروگرام منعقد کیے گئے، جن میں کراچی، حیدرآباد، سکھر، بہاولپور، ملتان، سیالکوٹ، لاہور، مظفرآباد، پشاور اور گلگت سمیت مختلف شہر شامل تھے۔ ہماری کوشش ہے کہ علماء اور پروفیشنلز کے درمیان ایک علمی رابطہ قائم ہو۔

الصادق انسٹیٹیوٹ میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء اور پروفیشنلز بھی آتے ہیں۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ مختلف علمی نقطۂ نظر ایک دوسرے کے سامنے آئیں، گفتگو ہو اور ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے کا موقع ملے۔

ہمارے پروفیشنل کورسز میں شیعہ، سنی کی کوئی تفریق نہیں۔ ہمارا مقصد اسلامی مالیات کے شعبے میں علمی و تخصصی افراد تیار کرنا ہے۔

ہم نے کوشش کی ہے کہ ہمارے کورسز عام اداروں کے مقابلے میں کم فیس پر دستیاب ہوں۔ جہاں ایک کورس کی فیس زیادہ ہوسکتی ہے وہاں ہم اسے نسبتاً کم فیس میں فراہم کرتے ہیں اور علماء کے لیے اسکالرشپ بھی رکھی گئی ہے۔ حتی جو افراد فیس ادا نہیں کرسکتے، ان کے لیے بھی ہم نے حاضری اور سنجیدہ شرکت کی بنیاد پر سہولت فراہم کی ہے۔

اسلامی مالیاتی صنعت کے عالمی اداروں کے ساتھ بھی رابطے قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسی طرح یورپ میں اسلامی مالیات کے حوالے سے آگاہی اور تربیتی سرگرمیوں کے لیے بھی کام کیا جارہا ہے۔

ہماری خواہش ہے کہ صرف آگاہی نشستوں تک محدود نہ رہیں بلکہ بنیادی اور تخصصی کورسز بھی کروائے جائیں تاکہ علماء اس شعبے میں عملی طور پر کام کرسکیں۔ اسی طرح نجف اشرف اور دیگر ممالک میں موجود متعلقہ اداروں کے ساتھ بھی تعاون اور اشتراک کے امکانات پر کام کیا جارہا ہے۔

اسلامی بینکاری سے اسلامی معاشی نظام تک؛ حوزاتِ علمیہ اور جدید معاشی تقاضے

حوزہ: ایک دینی طالب علم اس شعبہ میں کیسے داخل ہو سکتا اور اپنی علمی صلاحیت بہتر بنا سکتا ہے، اس کی شرائط اور امتیازات سے ہمارے قارئین کو آگاہ کریں۔

حجت الاسلام سید مظہر عباس زیدی: پاکستان میں عالمِ دین کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے لیے بنیادی دینی تعلیم ضروری ہے، لیکن موجودہ دور میں تخصص کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔ اسی مقصد کے لیے جامعۃ الصادق پاکستان کے قیام کی کوشش کی گئی ہے، جہاں مستقبل میں تخصص فی المعاملات کا پروگرام شروع کرنے کا ارادہ ہے۔ اس سلسلے میں نصاب کی تیاری پر بھی کام ہوا ہے۔

ہمارا مقصد یہ ہے کہ جو عالم اس شعبے میں آئے اسے بینکاری، مشارکہ، فقہی مشارکہ، بینک میں اجارہ اور دیگر جدید مالیاتی معاملات کی بنیادی اور تخصصی معلومات حاصل ہوں۔ اس وقت بنیادی سے ایڈوانس سطح تک مختلف کورسز کی تیاری کی جارہی ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ اسلامی فنانس کے کورس میں آنے والا ہر طالب علم پہلے سے کسی مخصوص دنیاوی ڈگری کا حامل ہو، تاہم انگریزی زبان اور کمپیوٹر کی بنیادی مہارت ضروری ہے، کیونکہ جدید مالیاتی نظام کا بڑا حصہ انہی ذرائع سے وابستہ ہے۔ نئے ضوابط میں بھی دینی تعلیم کے ساتھ بعض اضافی تعلیمی اہلیتوں پر توجہ دی گئی ہے۔ اگر کسی طالب علم کے پاس کامرس، اکنامکس یا کسی متعلقہ شعبے کی تعلیم ہو تو اسے اس شعبے کو سمجھنے میں فائدہ ہوتا ہے، تاہم دینی بنیاد اپنی جگہ بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

آج حلال کا تصور صرف گوشت یا ذبیحہ تک محدود نہیں رہا۔ جدید صنعت نے حلال کے موضوع کو بہت وسیع کردیا ہے۔ فوڈ انڈسٹری، کاسمیٹکس، ادویات، حلال ٹورزم اور دیگر شعبوں میں استعمال ہونے والے اجزاء اور ان کے ذرائع کی شرعی حیثیت جانچنا ضروری ہے۔ پہلے ایک شخص گھر میں کباب بناتا تھا، آج یہی چیز صنعتی پیمانے پر تیار ہوتی ہے۔ اس میں مختلف اجزاء، رنگ، کیمیکلز اور دیگر مواد شامل ہوتے ہیں۔ ان سب کے شرعی پہلوؤں کی جانچ کے لیے ماہرین کی ضرورت ہے۔ اسی طرح حلال ٹورزم بھی ایک اہم موضوع ہے، خصوصاً غیرمسلم ممالک میں جہاں مسلمان خاندان سفر کرتے ہیں۔ اس حوالے سے بھی شرعی معیار اور سہولیات کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بینچ موجود ہیں۔ ایسے حالات میں فقہی موضوعات پر تخصص رکھنے والے افراد کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔

اسلامی بینکاری سے اسلامی معاشی نظام تک؛ حوزاتِ علمیہ اور جدید معاشی تقاضے

ہمیں ایسے ماہرین تیار کرنے کی ضرورت ہے جو فقہ اور قانون دونوں کو سمجھتے ہوں اور خصوصاً فقہِ امامیہ کے نقطۂ نظر سے جدید قانونی و شرعی مسائل پر علمی معاونت فراہم کرسکیں۔ اس شعبے میں تحقیقی مواد اور متخصص افراد کی ضرورت ہے، جس کے لیے ایران اور دیگر اسلامی مراکز کے تجربات سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

ہماری کوشش یہ ہے کہ حوزہ، علماء، بینکرز، ماہرینِ اقتصاد، قانونی ماہرین اور دیگر پروفیشنلز ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ صرف کتاب پڑھ لینا کافی نہیں۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ احکام اور اصول عملی زندگی میں کیسے نافذ ہوتے ہیں۔

اسلامی مالیات، حلال صنعت، فقہِ معاملات، فقہی موضوع شناسی اور جدید مالیاتی مسائل ایسے میدان ہیں جن میں علماء اور متخصصین کے درمیان مشترکہ علمی کام کی ضرورت ہے۔

اسی سلسلے میں الصادق شریعہ سلوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ بھی قائم کی گئی ہے، جس کا مقصد شرعی مشاورت اور مختلف شعبوں میں شریعہ رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ اس میں مختلف علمی پس منظر رکھنے والے علماء اور ماہرین کو ساتھ لانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ مختلف شعبوں کے مسائل کو جامع انداز میں دیکھا جاسکے۔

ہماری اصل کوشش یہ ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام کی علمی میراث اور فقہِ جعفری کے اصولوں کو جدید معاشی و مالیاتی مسائل کے ساتھ مربوط کیا جائے اور ایسے متخصص افراد تیار ہوں جو شریعت اور جدید دنیا دونوں کو سمجھتے ہوں۔

اسلامی بینکاری سے اسلامی معاشی نظام تک؛ حوزاتِ علمیہ اور جدید معاشی تقاضے

اسلامی بینکاری سے اسلامی معاشی نظام تک؛ حوزاتِ علمیہ اور جدید معاشی تقاضے

اسلامی بینکاری سے اسلامی معاشی نظام تک؛ حوزاتِ علمیہ اور جدید معاشی تقاضے

اسلامی بینکاری سے اسلامی معاشی نظام تک؛ حوزاتِ علمیہ اور جدید معاشی تقاضے

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha